الیکٹرانک کچرے سے بنے جی سیون سربراہان کے مجسمے عوام کی توجہ کا مرکز


Love test - Love calculator - Love quiz

Posted on Tuesday 22nd of June 2021 at 01:47pm
الیکٹرانک کچرے سے بنے جی سیون سربراہان کے مجسمے عوام کی توجہ کا مرکز

جی سیون ملکوں کا تین روزہ سربراہی اجلاس جمعہ کو برطانیہ کے جنوب مغربی جزیرہ نما کے مقبول سیاحتی مقام 'کورنوال' میں واقع کاربس بے میں شروع ہو رہا ہے۔ اس مقام پر ایک ماحول دوست گروپ کے تیار کردہ الیکٹرنک کچرے سے بنائے گئے مجسمے اپنی انفردیت کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ یہ مجسمے جی سیون ملکوں کے سربراہان کے ہیں۔

مجسمہ سازوں کا کہنا ہےکہ مجسموں کی تیاری میں جو الیکٹرانک کچرا استعمال کیا گیا ہے، اس کی خاص بات ہے کہ اس کچرے کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر ان سے روزمرہ زندگی میں کام لیا جا سکتا ہے۔

ان سات مجسموں کی تیاری میں پرانے موبائل فون، کمپیوٹر اور یہاں تک کہ ویکیوم کلینر بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ جی سیون اجلاس کے ایجنڈے میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحول دوست مستقبل کو ممکن بنانے پر غور شامل ہے اور اس فن پارے کا مقصدبھی الیکٹرانک کچرے سے ماحول کو لاحق خطرے کی طرف توجہ دلانا ہے۔

Statues of G-Seven chiefs made of electronic waste are the center of public attention

اس فن پارے کو امریکہ کی ماؤنٹ رشمور کی مناسبت سے ماؤنٹ ری سائیکل مور'Mount Recyclemore' کا نام دیا گیا ہے۔ ماؤنٹ رشمور میں امریکہ کے بانی پانچ صدور کے مجسمے پہاڑ پر تراشے گئے ہیں، جب کہ کورنوال میں جی سیون اجلاس میں شرکت کرنے والے سات رہنماؤں کے مجسمے بنائے گئے ہیں جن میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، امریکی صدر جو بائیڈن اور جرمن چانسلر انگیلا مرکل شامل ہیں۔

Statues of G-Seven chiefs made of electronic waste are the center of public attention

فن پارے بنانے والے فن کاروں میں جو رش بھی شامل ہیں جنہیں الیکٹرانک ری سیل کمپنی میوزک میگ پائی نے اس کام کی ذمے داری دی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فن پارہ نقصان دہ الیکٹرانک کچرے سے نمٹنے کی ضرورت کی جانب توجہ دلانے میں کامیاب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے سے بطور اقوام نہیں، بطور نسل انسانی نمٹنا ہو گا۔

میوزک میگ پائی کے شریک بانی اور سی ای او اسٹیو اولیور نے کہا کہ ہر سال پانچ کروڑ 30 لاکھ ٹن الیکٹرانک کچرا پیدا ہوتا ہے اور اس میں جی سیون ملکوں کا حصہ 40 فیصد ہے۔

Source webpage

مزیددلچسپ معلومات



Write a comment