اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر، کاغذات اور دیگر اشیا میوزیم اور لائبریری کا حصہ بنیں گی


Calculator lock, Hide Photos, Videos and Audios

Posted on Sunday 30th of May 2021 at 11:58am
اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر، کاغذات اور دیگر اشیا میوزیم اور لائبریری کا حصہ بنیں گی

برطانیہ کے معروف سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر، کاغذات اور ذاتی استعمال کی اشیا اب میوزیم اور لائبریری کا حصہ بنیں گی۔

برطانوی حکومت نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر سمیت ان کے آفس میں موجود ذاتی استعمال کی اشیا کو لندن کے سائنس میوزیم میں رکھا جائے گا۔

اسٹیفن ہاکنگ کے آرکائیو کے سائنٹیفک اور ریسرچ پیپرز معروف سائنس دان آئزک نیوٹن اور چارلس ڈارون کے آرکائیو کے ساتھ کیمبرج یونی ورسٹی کی لائبریری میں رکھے جائیں گے۔

یاد رہے کہ اسٹیفن ہاکنگ کے مرنے کے بعد ان کی راکھ کو بھی سائنس دان آئزک نیوٹن اور چارلس ڈارون کی راکھ کے ساتھ لندن کے ویسٹ منسٹر میں دفن کیا گیا تھا۔

لندن کا ویسٹ منسٹر نامی یہ مقام شاہی شخصیات کی شادی اور آخری رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

کیمبرج یونی ورسٹی کی لائبریری کا حصہ بننے والے اسٹیفن ہاکنگ کے 10 ہزار صفحات پر مشتمل آرکائیوز میں فیچر تصاویر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن کے خطوط بھی شامل ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کے آفس میں موجود تمغے اور دیگر یادگار اشیا کو لندن کے سائنس گروپ میں محفوظ کیا جائے گا جب کہ ان کی کچھ چیزیں 2022 کے آغاز میں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ برطانوی سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کو بین الاقوامی سطح پر 1988 میں شائع ہونے والی کتاب 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم' سے شہرت ملی تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے بلیک ہولز اور کائنات سے متعلق تصورات پیش کیے تھے۔

بلیک ہول دراصل خلا میں موجود ایک ایسا خطہ ہے جہاں کشش ثقل اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی بھی شے اس کشش کو برداشت نہیں کرتی اور وہ اس میں چلی جاتی ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ 21 سال کی عمر سے 'موٹر نیورون ڈیزیز' نامی بیماری میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے وہ وہیل چیئر کی حد تک محدود ہو گئے تھے۔

سائنس دان اسٹیفن مارچ 2018 میں 76 برس کی عمر میں دنیا فانی سے رخصت ہو گئے تھے۔

اسٹیفن ہاکنگ کے بیٹے ٹم ہاکنگ کا کہنا ہے کہ "ان کے والد کی زندگی میں سب سے اہم چیز یہ تھی کہ سائنسی علم کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے اور اسے صرف چند ایلیٹ طبقے تک محدود نہ کیا جائے۔"

ان کے بقول، والد کی چیزوں کو دوسروں تک رسائی دینا آنے والی نسل کے لیے مددگار ثابت ہو گا۔

Source webpage

مزیددلچسپ معلومات



Write a comment