برنی میڈوف کی موت، امریکی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کی کہانی ختم ہوگئی


Calculator lock, Hide Photos, Videos and Audios

Posted on 04-16-2021 at 09:38pm
برنی میڈوف کی موت، امریکی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کی کہانی ختم ہوگئی

ویب ڈیسک —امریکی تاریخ کے سب سے بڑے وائٹ کالر کرائم اور وال سٹریٹ کی تاریخ کے سب سے بڑا فراڈ کے لئے پہچانے جانے والے 82 سالہ برنی میڈوف کا بدھ کے روز امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا کے فیڈرل میڈیکل سینٹر میں انتقال ہو گیا۔ انہیں اپنے جرائم کے لئے 150 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

برنی میڈوف کے انتقال کی خبر کی تصدیق ان کے وکیل اور محکمہ جیل خانہ جات نے کی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، ان کی موت قدرتی وجوہات سے ہوئی۔

گزشتہ سال کرونا وائرس کی وبا کے دوران، ان کے وکلاٗ نے خرابی صحت کی وجہ سے ان کی جیل سے رہائی کی اپیل کی تھی، لیکن اس اپیل کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

’برنی‘ کے نام سے معروف برنارڈ میڈوف معاشی حلقوں میں گرو کی حیثیت رکھتے تھے ، ان کے بارے میں خیال تھا کہ ان کے چھونے سے مارکیٹوں میں مندی اور تیزی پیدا ہو جاتی تھی۔

وہ امریکی سٹاک مارکیٹ نیسڈیک کے سابقہ چئیرمین بھی تھے۔ ان کی سرمایہ کاری کی سکیموں کے بہت سے وفادار سرمایہ کار اور کلائینٹس تھے۔ ان میں فلوریڈا میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے بہت سے عمر رسیدہ افراد، فلم ڈائریکٹر سٹیون سپیل برگ اور ایکٹر کیون بیکن اور بیس بال کے مشہور کھلاڑی سینڈی کاؤفاکس بھی شامل تھے۔

لیکن ان کا سرمایہ کاری میں مدد کرنے والے کاروبار کا بھانڈا 2008 میں پھوٹ گیا، جب پتہ چلا کہ یہ ایک ’پونزی سکیم‘ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی دولت لٹ گئی تھی اور بہت سے خیراتی ادارے تباہ ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ پونزی سکیم سرمایہ کاری کی ایسی سکیم کو کہتے ہیں، جس میں سرمایہ کاروں کو بھاری منافع کا لالچ دیا جاتا ہے۔ ایسی سکیم میں شروع میں سرمائے پر بھاری منافع دیا بھی جاتا ہے لیکن یہ منافع نئے سرمایہ کاروں کے سرمائے سے نکال کر پرانے سرمایہ کاروں کو دیا جاتا ہے۔

ایسے میں مارکیٹ میں اس بھاری سرمائے کی بڑھ چڑھ کر تشہیر بھی کی جاتی ہے اور پھر ایسا فراڈ کرنے والے یا تو رفو چکر ہو جاتے ہیں یا یہ سب سکیم زمین پر دھڑام سے گر جاتی ہے اور ہزاروں افراد کا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔

فراڈ کے انکشاف کے بعد برنی میڈوف اس قدر غیر مقبول ہو گئے تھے کہ انہیں عدالت میں بلٹ پروف ویسٹ پہن کر جانا پڑتا تھا۔

یہ امریکہ کے معاشی مرکز وال سٹریٹ کی تاریخ میں سب سے بڑا فراڈ تھا۔

پچھلے کئی برسوں میں امریکی عدالت کی جانب سے مقرر کئے جانے والے ٹرسٹیز کی انتھک محنت سے سرمایہ داروں کے 17.5 ارب ڈالر میں سے 14 ارب ڈالر برآمد کئے جا چکے ہیں۔ لیکن ایک وقت تھا کہ میڈوف کے من گھڑت اکاؤنٹس سٹیٹمنٹس اپنے کلائینٹس کو یہ بتا رہے تھے کہ ان کے پاس 60 ارب ڈالر کا سرمایہ موجود ہے۔

میڈوف نے 2009 میں اپنے جرم کا اقرار کیا تھا اور امریکی ڈسٹرکٹ جج، ڈینی چین نے ان کے لئے زیادہ سے زیادہ سزا تجویز کی تھی۔

عدالت نے ان کی تمام جائیداد اور ان کی اہلیہ روتھ کے 8 کروڑ ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے بعد ان کی اہلیہ کے پاس محض 25 لاکھ ڈالر کے اثاثے باقی رہ گئے تھے۔

اس سکینڈل کی وجہ سے ان کے خاندان کو بھی نقصان پہنچا۔ ان کے بھائی کو اس دعوی کے باوجود کہ انہیں میڈوف نے اس فراڈ سے اندھیرے میں رکھا، 10 برس کی قید کی سزا سنائی گئی۔

ان کے ایک بیٹے نے والد کی قید کے دوسرے برس خودکشی کر لی اور ان کا دوسرا بیٹا کینسر کے مرض کی وجہ سے 48 برس کی عمر میں وفات پاگیا۔ ان کی اہلیہ اب بھی حیات ہیں۔

میڈوف کے تین درجن متاثرین کے وکیل جیری رازمین نے اے پی کو بتایا کہ انہوں نے جب اپنے موکلوں سے اس بارے میں تاثرات لیے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دن پر خوش ہیں اور میڈوف کی موت کو کوئی نقصان نہیں سمجھتے۔

Source webpage

مزیددلچسپ معلومات



Write a comment